- List Item #1
- List Item #1
- List Item #1
- List Item #1
!ہم وطن دوستو
وطنِ عزیز کی تاریخ عوام کے ساتھ ہونے والی سماجی،سیاسی اور معاشی ذیادتیوں سے بھری پڑی ہے۔گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر نظر دوڑائیں تو فوجی اور سول حکومتیں وقفے وقفے سے آتی جاتی نظر آتی ہیں۔ہر حکومت آتے وقت عوام کو خوش نما وعدے،نعرے اورا میدیں دیتی ہے۔مگر ہر حکومت عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی،بے روزگاری اور مشکل تر حالات کے تحفے دیتی ہے،جس کی بنیادی وجہ ان حکمرانوں کا عوام کے ساتھ طبقاتی تضاد ہے۔پاکستان کی تمام حکومتوں کے سربراہ اورتمام اسمبلیوں کے ارکان کی اکژیت جاگیردار،سرمایہ داراور سول و فوجی بیورو کریسی کے ریٹا ئرڈ افسران پر مشتمل رہی ہے جو پاکستان کے امیر ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے حکومتی پالیسیوں اورقانون سازی کا محور امیر طبقے کوتحفظ دینا رہا ہے اور ان کی تجوریوں کے وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے سفید اور کالے دھن کو تحفظ دینارہا ہے۔یہ حکمران طبقات عوام کے خون پسینہ کی کمائی سے حاصل شدہ ٹیکس کو ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور ملکی ترقی یا عوام کی بھلائی کی بجائے کرپشن کے ذریعے جمع شدہ دولت بیرونِ ملک اکاؤنٹس میں جمع کروانے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔اسی وجہ سے وطن میں عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔آج اگر ہم مزدور کے حا لات کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق لیبر قوانین پر کسی بھی فیکٹری یا کار خانہ میں عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔کوئی بھی فیکٹری یا کارخانہ مزدور کو رہائش، بچوں کی تعلیم،علاج معالجہ،حادثاتی انشورنس،گریجوایٹی الاؤنس،ریٹائرمنٹ الاؤنس سمیت کوئی بھی حق فراہم نہیں کر رہا۔بلکہ90 فیصد فیکٹریاں، ٹھیکیداری نظام کے تحت چلائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے مزدوروں کو مستقل نوکری کی کوئی ضمانت نہیں اور ان سے حکومت کی مقررکردہ کم از کم تنخواہ سے بھی بہت کم اجرت پر کام لیا جا تا ہے۔اوور ٹائم یا بونس کے نام پر کوئی پیسہ نہیں دیا جاتا۔ان حا لا ت میں مجبور مزدور کو کوئی یونین سازی کا بھی حق حاصل نہیں۔اگر کوئی مزدور ہمت کر کے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی کوشش کرے تو اسے جبری طور پر فار غ کر دیا جاتا ہے۔لیبرڈیپارٹمنٹ بھی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی بجائے فیکٹری مالکان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
اسی طرح ہم کسان کے حالات کا جائزہ لیں تو بے زمین ہاری اور چھوٹے کسان کے حا لا ت انتہائی مشکل ہیں۔بیج،کھاد اورپانی کی قیمتیں آئے روز بڑھ رہی ہیں اور پٹرول، ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے کاشت کاری کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔اسی وجہ سے فصل کی پیداواری لاگت پہلے سے زیا دہ ہو ئی ہے۔مگر دوسری طرف فصل کی تقسیم اورمنڈی کے ناقص نظام کی وجہ سے فصل کی قیمت گر گئی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کی آمدن ہر سال کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔ فصل کے موسم میں بیج اور کھاد کو بلیک میں بیچ کر ناجائز منافع کمانا بھی ہمارے کسانوں کو مزید مشکلات کا شکار کر دیتا ہے۔اسی طرح گندم کی کٹائی کے وقت باردانہ بھی ہمیشہ مہنگے داموں بلیک میں ملتا ہے اور یہ سب حکومتی اہلکاروں کی ناک کے نیچے ہوتا ہے مگر ان غیر قانونی رحجانات کو ختم کرنے کیلئے آج تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، اس کے علاوہ اگر ہم دیگر مسائل پر نظر ڈالیں اور اگر ہم گنے کی فصل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی بنانے والی فیکٹریوں نے غریب کسانوں کو ایک مافیا کے ذریعے جکڑ رکھا ہے۔ یہ ما فیا کسانوں کو اپنی خون پسینے سے اگائی فصل انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور کرتا ہے۔یہی زیادتی ہم کپاس کے کھیت مزدوروں کے ساتھ ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔جہاں انہیں کسی بھی حفاظتی اقدام کے بغیر کھیت میں کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس سے وہ سانس کی بیماریوں اور کینسر جیسے موذی امراض میں مبتلا ہو جا تے ہیں۔آڑھتیوں اور ساہوکاروں کے استحصال کے با عث کاشتکاروں کو ان کے حقوق ملنا نا ممکن ہو چکا ہے۔
اگر ہم شہری علاقوں میں دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں،چھابڑی فروشوں،کاریگروں،دوکانداروں اور سفید پوش طبقے کے حالات کو دیکھیں تو یہاں بھی وہی صورتحال نظر آتی ہے ایک طرف تو اشیائے صر ف کی بڑھتی قیمتیں ان کی کمر توڑ دیتی ہیں اور دوسر ی طرف روپے کی
کم ہوتی قیمت آئے روز ان کی قوت خرید کو کم کر دیتی ہے ایک طرف امیر طبقہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی جیسے ناجائز ہتھکنڈوں سے اپنی دولت بڑھا تا ہے تو دوسری طرف عوام بجلی،گیس،پانی اور پٹرول کی قیمتوں سے بری طرح متاثر ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ترین کام بن گیا ہے۔
تعلیم کے شعبے کا حال کبھی کوئی مختلف نہیں۔ بڑھتی آبادی کے ساتھ نئے سکول اور کالج بنانے کا فریضہِ حکومت نے مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹرکے حوالے کردیا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر کوئی غیر منافع بخش کام نہیں کرتا آج جبکہ حکومت فیس اور معیارِ تعلیم سمیت پرائیویٹ تعلیمی داروں پر کوئی کنٹرول رکھنا ضروری نہیں سمجھتی تو یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مکمل طور پر ایک ما فیا کی صورت اختیار کر گئے ہیں
جہاں نمودونمائش سے بھر پور تعلیمی ادارے بنا کر بھاری بھرکم فیس وصول کرنا رجحان بن گیا ہے۔اب صرف ان تعلیمی اداروں کے باہر تعلیم برائے فروخت کا بورڈ لگانے کی ضرورت رہ گئی ہے۔ کسی سرکاری تعلیمی ادارے کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ گزری صدیوں میں آگئے ہیں۔جدید ٹریننگ سے محروم اساتذہ بے روز گاروں کی نئی نسل کو پڑھا رہے ہیں۔دیہی علاقوں میں عمارت ہے تو اساتذہ نہیں اور اساتذہ ہیں تو عمارت نہیں۔ اکثر سکولوں میں پڑھائی کی بجائے جانوروں کو باندھنے کا کام لیا جا تا ہے۔اس پر مدعا یہ کہ سرکار اساتذہ کو بھی مستقل ملا زمت کی بجائے ایڈہاک ملازمین کے طور پر بھرتی کر رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کب تک اساتذہ کی حیثیت سے کام کریں گے۔ یاد رہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ہے وہاں اساتذہ کو سب سے زیادہ سہولتیں اور تنخواہ دی جاتی ہے۔
ہمارے باقی سارے سرکاری ملازمین کیساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، ایڈ ہاک ملازمت دراصل کسی بھی فرد کے لیے لٹکتی تلوار ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کا م نہیں کرسکتا۔ہمارے تمام سرکاری اداروں میں مستقل ملازمین کی تعداد بہت کم ہے۔
ہم وطن دوستو!
ہمارے ملک کی 51 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔جن کے ساتھ سخت معاشی اور سماجی نا انصافی مسلسل ہورہی ہے۔ کسی بھی شعبہ میں خواتین کو مناسب مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔خواتین کو سماجی طور پر دبا کر رکھا جا تا ہے اور ان کی اہمیت بچے پیدا کر نے والی مشین کے سوا کچھ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں خواتین نے تعلیم کے ہر شعبے میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اہلیت میں مردوں سے کسی طور پر بھی کم نہیں اور اگر انہیں مردوں کے برابر حقوق فراہم کیے جائیں تو وہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خواتین کے متعلق سماجی رویوں کو تبدیل کریں اور انہیں مرد کے برابر انسان تسلیم کریں اور خواتین کی ترقی سے کسی کا ”مردانہ پن“مجروح نہ ہو۔آج ہم ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیں تو ہمیں عورت ہر شعبے میں مردوں کے برابر کام کرتی نظرآتی ہے۔ہماری پسماندگی کی ایک بڑی وجہ خواتین کی اہمیت کوتسلیم نہ کرنا بھی ہے۔
اب ہم صحت کے شعبے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں۔صحت کی سہولیا ت ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔وطن عزیز میں دوسرے شعبوں کی طرح صحت جیسے اہم شعبے کو بھی ایک کاروبار بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔آج ہماری ایک چوتھائی آبادی یرقان،ٹی بی اور ایسے ہی جان لیوا امراض کا شکار ہے بلڈپریشر اور شوگر چالیس سال سے زائد عمر کے افراد میں عام ہے۔زچگی کے دوران 4.3 فیصد خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔13فیصدبچے 5 سال سے کم عمر میں خالق حقیقی کو جا ملتے ہیں اور لا تعداد افراد صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
عوام کو ان تمام قابل علاج امراض کے علاج سے محروم کر کے مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔صحت جوآئین پاکستان کے مطابق ہمارا بنیادی حق ہے،آج ہم سے کہیں دور ہے۔بے حِس اراکین اسمبلی اور خودغرض حکومتوں نے عوام کو صحت سے محروم کر کے موت کے حوالے کر دیا ہے۔
ہم وطن بھائیو اور بہنو!
آج وطن عزیز جس مقام پر پہنچ گیا ہے وہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔اب بھی اگر ہم آنکھیں بند کر کے کسی ایسے لیڈر کا انتظار کرتے رہے جو تمام برائیوں اور علتوں سے پاک ہواور اس کا تعلق کسی جاگیر دار یا سرمایہ دار خاندان سے ہو تو سمجھ لیں کہ وہ لیڈر کبھی نہیں آئے گااور اگر کبھی آئے گابھی تو ہمارے درمیان سے ہی ایک عام آدمی ہوگا جو ہمارے مسائل کاحل کرے گا۔کوئی ایسا شخص جو سرمایہ داراور جاگیر دار طبقے سے تعلق رکھتا ہے،لوگوں کا درد نہیں سمجھ نہیں سکتا کیونکہ جو لیڈر غربت، بیروزگاری،اور بھوک سے خود نہیں گزرا
وہ غریب عوام کے مسائل کا ادراک کیسے کر سکتا ہے؟
پاکستان کی اکائیاں جو سندھ دھرتی کے رہنے والے پختونخواہ کے رہنے والے،بلوچستان کے رہنے والے یا پنجاب میں رہنے والے عوام ہیں وہ مختلف قسم کی محرومیوں اور عدم تحفظ کا شکارہیں۔کہیں گم شدہ افراد کا مسئلہ ہے کہیں ثقافت خطرے میں ہے کہیں معاش کا مسئلہ ہے
اور کہیں کوئی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پہ نالاں ہے۔ایک پاکستان میں قومیتوں کی اکائیاں ہیں۔سب کے مسائل کا اِدراک ضروری ہے
یہ حل مل کر ایک وفاق کے تحت نکالا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ جو بھی اکائی اپنے مسائل کا اظہار کر ے اس کے مسائل پر غور کیا جائے نہ کہ اس کو غدار قرار دے دیا جائے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وطن کے خلاف بہت سی غیر ملکی طاقتیں سازش میں مصروف ہیں۔مگر حق کے لیے آواز اٹھانے والے گروہ یا سیاسی قوت کو سازشی،غیر ملکی ایجنٹ اور غدارقرار دینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ہمیں بالآخر ان مسائل کے لیے تمام صوبوں کے عوام کی بات سننا پڑے گی۔
اغراض و مقاصد
۱۔ پاکستان کے معاشی،سیاسی و سماجی ڈھانچہ کو مکمل طور پر تبدیل کر کے عوامی جمہوری نظام قائم کرنا۔
۲۔ پاکستان کی مقامی حکومتوں یعنی ضلع کونسل،تحصیل کونسل،ٹاؤن کمیٹی اور شہری و دیہی یونین کونسل کی سطح پر مالی،انتظامی اور سیاسی طور پر عوام کو با اختیار اور خود مختار بنانا۔
۳۔ ملک کو ورلڈ بینک، آئی ایم ایف،ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور قرضے دینے والے دیگرکنسورشیم کے معاشی و سیاسی چنگل سے آزاد کروانا۔
۴۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں قومی صنعتوں کو فروغ دینا۔
۵۔ عوام کو روزگار،مفت تعلیم اور صحت کی آئینی ضمانت دینے کے لیے جدوجہد کرنا۔
۶۔ پاکستان کے عدالتی نظام کو مقامی سطح سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک کرپشن سے پاک اور تیز تربنا نا۔
۷۔ خواتین کو سماجی اور معاشی لحاظ سے مردوں کے برابر حقوق دلوانے کی جدوجہد کرنا۔
۸۔ شہری اور دیہی علاقوں کی خواتین کو مردوں کے برابر معاوضہ دلوانا اور ان کیلئے ہر جگہ کام کے ماحول کو بہتر بنانا۔
۹۔ پاکستان کی تمام قومیتوں اور پسماندہ علاقوں کے عوام کی معاشی،سیاسی و سماجی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کرنا۔
۰۱۔پاکستان کے شہریوں کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام جانداروں کی زندگی محفوظ رکھنے کے لیے واضح پروگرام تشکیل دینا۔
۱۱۔آئین کے آرٹیکل 25-Aکے مطابق پاکستان کے ہر شہری کو پہلے 12 سال کی تعلیم مفت اور لازمی مہیا کرنا اور نصاب تعلیم جدید سائنسی بنیادوں پر از سرِ نو ترتیب دینا۔
۲۱۔ ملک بھر میں آبادی کے تناسب سے سرکاری سکولوں، کالجوں،فنی تعلیمی اور خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کرنا۔
۳۱۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے زمین کی منصفانہ تعلیم اور ملک بھر کی بنجر زمینوں کو ہاریوں اور چھوٹے کسانوں میں تقسیم کر کے قابل کاشت بنا نا۔
۴۱۔ ملک بھر کے چھوٹے کسانوں کو آڑھتیوں اور ساہوکاروں کے استحصال سے بچانا۔
۵۱۔ کھاد، بیج ا ور باردانہ کی بلیک مارکیٹ کو ختم کرے کیلئے سخت اقدامات کی قانون سازی کرنا۔
۶۱۔ مزدور کی کم از کم ما ہا نہ اجرت ایک تولہ سونے کے برابر کرنا۔
۶۱۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرنا۔
۷۱۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ اور لیبر قوانین میں ترمیم کر کے انہیں مزدور دوست قوانین میں تبدیل کرنا
۸۱۔ بھٹہ مزدوروں سمیت تمام مزدوروں کو سوشل سیکورٹی اور ریٹائرمنٹ الاونس فراہم کروانے کی جدوجہد کرنا
۹۱۔ پاکٹ یونین کو ختم کر کے مزدوروں کو یونین سازی کا حق دلوانا۔
۰۲۔ تمام سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کو ان کے خاندان سمیت مفت تعلیم،رہائش اور علاج کی ضمانت فراہم کرنا اور حکومت کی جانب سے اس پر عملدراآمد کو یقینی بنانا۔
۱۲۔ تما م سرکاری ملازمین کی ایڈہاک ملازمتوں کو مستقل ملازمتوں میں تبدیل کروانا۔
۲۲۔ ہمسایہ ممالک کیساتھ برابری کی بنیاد پر تمام مسائل کو عالمی قوانین کے مطابق کرتے ہوئے بھائی چارے کے تعلقات قائم کرنا۔
پیارے ہم وطنو!
پاکستان انقلابی پارٹی نے ملک کے ذرائع پیداوار پر قابض دیگر مفاد پر ست،جاگیر دار اور سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کی طرح ڈرائنگ روموں میں جنم نہیں لیا بلکہ اس کے پیچھے ایک انقلا بی جدوجہد کی طویل تاریخ ہے۔قیام پاکستان کے وقت سے ہی برطانوی سامراج کی پروردہ بیوروکریسی نے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بنیاد پرست طاقتوں کو ساتھ ملا کرملکی ذرائع پر قبضہ کر لیا تھاجس کے نتیجے میں غریب،غریب تر اور امیر، امیرتر ہوتا چلا گیا۔ عوام دشمن سیٹواور سینٹومعاہدوں پر دستخط کرنے کے بعد سامراج کے حواری بد نام زمانہ 22 خاندان اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہو گئے اور اس کے فطری رد عمل کے نتیجے میں عوام رفتہ رفتہ ہر طرح کی سہولت سے اس طرح محروم ہوتے چلے گئے حتی کہ آج 70 فیصد عوام سطح غربت سے نیچے اپنی زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں۔
پاکستان انقلابی پارٹی معروضی حالات کا تجزیہ کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے عمل سے وجود میں آئی ہے۔چونکہ یہ پارٹی بذاتِ خود مزدوروں،کسانوں اور نچلے متوسط طبقے کی پارٹی ہے جس میں کوئی سرمایہ دار،کوئی جاگیر دار اور کوئی بنیاد پرست شامل نہیں ہو سکتا اس لیے یہ واحدسیاسی پارٹی ہے جو اپنے دکھوں کا علم بھی رکھتی ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے واضح سیاسی پروگرام بھی ترتیب دیا جاچکا ہے۔آج سامراج کی پروردہ تمام سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کی 1947ء سے لے کر آج تک کی کارگردگی آپ کے سامنے ہے۔ملک زیادہ تر طالع آزماؤں کے قبضے میں رہا ہے اور باقی وقت ان سیاسی جماعتوں کے زیرِ اطاعت رہا جن کا جنم فوجی ڈکٹیڑوں کی گود میں ہوا۔
مگر اب بس۔۔۔۔!
اب عوام اپنے مسائل کوخود حل کریں گے۔آئیے پاکستان انقلابی پارٹی کے پرچم تلے متحد ہو کر ایک روشن اور بہتر سماج کی تشکیل کریں۔انشاء اللہ آخری فتح عوام کی ہی ہو گی۔
جاری کردہ شعبہ نشرو اشاعت: پاکستان انقلابی پارٹی
-14ائیرلائن سوسائٹی، لاہور، پاکستان